Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Urdu Pakistan (اردو)English (United Kingdom)
بینر

فن اور فن

پروین شاکر: زندگی، شاعری اور عشق

شاعر کا نظریاتی ہونا معیوب نہیں لیکن اس کے انسان کو انسان ہونا چاہیے، اس انسان کو نظریاتی خانوں میں بانٹنا سیاسی کارکن کا کام ہے،

اسی طرح شاعر اور تخلیق کاروں کا انسان اور اس کا تاریخ وجغرافیہ عمومی تاریخ و جغرافیے سے بلند ہوتے ہیں۔ مسئلہ کچھ ٹیڑھا ہے لیکن خواب دیکھنے میں کیا ہے کہ اس صدی کی لاٹری ہمارے نام کھلے گی۔

جہاں تک پروین شاکر کا تعلق تو ابھی ان کی جواں مرگی کا صدمہ جاری ہے اور یہ صدمہ نصرت زہرہ کی کتاب پر بھی چھایا ہوا ہے۔

اس کتاب پر جتنی باتیں کی جانی چاہیں وہ سب کی سب تو کاشف رضا، رومانہ رومی، خود نصرت زہرہ اور پروین شاکر کی بہن نسرین نے کر ہی دی ہیں۔

کاشف نے کتاب اور نصرت کے بارے میں بڑے کام کی بات کی ہے: ’نصرت زہرہ کی پروین سے عقیدت اور ایک طالب علم جیسی کرید نے راستے آسان کیے لیکن جہاں ایسی شخصیت سے سامنا ہو جس کے متعلق کہانیاں بہت ہوں اور حقائق کم یاب، وہاں مصنفہ کی مشکلات کا صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے‘۔

کیوں؟ اس کی وضاحت خود کاشف ہی نے کر دی ہے کہ وفات کے بعد متعلقین یہ چاہتے ہیں کہ مرنے والے کے بارے میں صرف وہی معلومات سامنے آئیں جن سے اس کی ادبی شہرت (خود ان کی مطلوبہ عزت) متاثر نہ ہو۔ اب آپ خود سوچ لیں کہ جو کچھ اس کتاب میں ہے اس کے لیے نصرت کو کس کس سے گزرنا پڑا ہو گا۔ لیکن نصرت نے اپنی تمام تر ’مجلس بیانی اور لسانی لطف اندوزی‘ کے باوجود سطور اور بین السطور سب تقاضے پورے کرنے کی کوشش کی ہے۔

کاشف نے اسے خاتون کا بیانیہ اور نسائی متن بھی کہا ہے۔ ’خاتون کا بیانیہ‘ میں سے تو کچھ آدھی گواہی کی سی مردانہ شاونسٹک قسم کی کھد بُد سنائی دیتی ہے لیکن نسائی متن کا معاملہ بہت اہم ہے۔ میں تو اس پر ایمان رکھتا ہوں کہ بیان پر بہت دسترس نہ ہونے کے باوجود بھی نسائی ادراک وہاں تک پہنچ جاتا ہے جہاں مردانہ اڑان پر تک نہیں مار سکتی۔ نصرت نے زبان کے بھاری پردوں کا معقول انتظام کیا ہے اور انہیں کرنا بھی تھا لیکن بات بھی کی ہے اور پہنچائی بھی ہے۔

سودا پڑھنے والوں کے حق میں ہے

اجرا

اجرا کے پہلے چار شماروں میں کیا کچھ شائع ہوا ہے مجھے اس بارے میں کچھ علم نہیں۔ یہ شمارہ مجھے محترم ابراہیم خان کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔ وہ ایک دل آویز شخصیت ہیں، موسیقی کی وراثت کے امین ہیں اور اپنی وراثت سے محبت بھی کرتے ہیں اسی لیے میں بھی ان کا مداح ہوں لیکن وہ علم اور کتابوں سے محبت کے سبب شاہین نیازی کے اسیر ہیں۔

احسن سلیم کو میں کوئی دو دہائیوں سے جانتا ہوں لیکن ان دو دہائیوں میں ایک دہائی وہ ہے جس میں میں پاکستان میں نہیں تھا لیکن احسن سلیم سے جب بھی ملاقات ہوئی کہیں نہ کہیں سے یہ بات ضرور نکل آئی کہ وہ ایک ادبی رسالہ نکالنے کا عزم رکھتے ہیں۔ احسن سلیم کیونکہ شاعر ہی نہیں شاعر مزاج بھی ہیں اس لیے یہ کبھی نہیں کھلا کہ وہ جو رسالہ نکالیں گے وہ کیسا ہو گا۔ اب جو رسالہ میں نے دیکھا وہ خاصا ’دھونسانے‘ والا ہے۔

اجرا کے سرپرست شاہین نیازی ہیں۔ جو کہا جاتا ہے کہ کوئی بڑے سرکاری افسر ہیں اور ادب اور افسری کا ملاپ پتا نہیں کیوں ہمیشہ مجھے ایک وسوسے میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ میرا تعصب بھی ہو سکتا۔ شاہین نیازی ایک عرصے سے ول ڈیوراں کی کتاب ’سٹوری آف سولائیزیشن‘ کو اردو میں کرنے پر لگے ہیں۔ اور اس شمارے میں ان کی اس کوشش کی تیسری قسط شائع ہوئی ہے جو اکیاون صفحات پر مشتمل ہے اور پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ ول ڈیوراں نے یہ سب اردو ہی میں سوچا سمجھا ہو گا۔ ان لوگوں کو جنھیں اردو ایسے مضامین کے لیے چھوٹی محسوس ہوتی ہے شاہین نیازی کا یہ کام ضرور دیکھنا چاہیے۔ اس حصے میں پروف ریڈنگ پر عدم توجہ بہت ہی بے لطف کرتی ہے۔

اس کے بعد مجلسِ نگراں ہے جو جدید اردو افسانے کے بانی، ڈرامہ نگار، اداکار، مصور اور سابق رقاص انور سجاد، زبان کی درستی اور کہانیت کے گرو شکیل عادل زادہ، سندھی کے ممتاز ادیب اور دانشور تاج جویو اور کہنہ مشق و مقبول شاعر صابر ظفر پر مشتمل ہے۔ مجلس ادارت اور مجلسِ مشاورت، دنیا بھر میں نمائندے اور معاون مدیر اس کے علاوہ ہیں۔

فلسفہ اور محبت

معروف تصنیف داستانِ فلسفہ کی وجہ سے جانا جاتا ہے جو برسوں پہلے اُردو میں ترجمہ ہو کر قارئین کی داد وصول کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ مصنف کی ایک اور کتاب نشاطِ فلسلہ کے نام سے معروف نفسیات داں، پروفیسر محمد اجمل نے بھی ترجمہ کی تھی جوکہ زیرِ نظر کتاب کا ایک ترمیم و اضافہ شدہ ایڈیشن تھا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کتاب اپنی حتمی اور زیادہ تکمیل شدہ صورت میں ترجمہ ہو چکی ہے تو اسی کے ایک ابتدائی ایڈیشن کو منظرِ عام پر لانے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ اسکا جواب کتاب کے مترجم کچھ یوں دیتے ہیں:

ٰ ٰ مصنف نے اس ابتدائی ایڈیشن میں خاندان، شادی، معاشرہ اور اخلاقیات کے موضوعات پر کھُل کے بحث کی تھی اور اپنے عہد کے معاشرے کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا تھا۔ چونکہ سن 1920 اور 1930 کے درمیانی عرصے کا مغربی معاشرہ کئی لحاظ سے آج کے مشرقی معاشرے جیسا تھا اس لئے مصنف کا وہ اسّی نوے برس پرانا تجزیہ ہمارے لئے بنیادی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ مثلاً اُس وقت کے مغربی معاشرے میں صنعتی ترقی کی وجہ سے پرانی اقدار تو مِٹ رہی تھیں لیکن اُن کی جگہ نئی اقدار ابھی سامنے نہیں آئی تھیں، شہری زندگی کے باعث خاندان کا شیرازہ بھی بکھر رہا تھا مگر کوئی نیا متبادل ڈھانچہ نہیں تیار ہوا تھا۔ اسی طرح محبت، شادی، جنسی معاملات اور گھریلو زندگی کے متعلق پرانے رومانوی تصورات بھی شکست و ریخت کا شکار تھے، جیسا کہ آج کل ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے۔ اسی مماثلت کے باعث 1929 میں شائع ہونے والی وِل ڈیورانٹ کی یہ کتاب آج ہمارے لئے ایک نئی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔ٰ ٰ

مصنف نے کتاب کی ابتداء میں ٰ ٰ سچائی ٰ ٰ کی سائنسی اور فسلفیانہ حقیقت سے بحث کی ہے، پھر میٹریل ازم اور آئیڈیل ازم کی پرانی بحث کا خلاصہ بیان کیا ہے، اور اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ کیا انسانی جسم ایک مشین کی طرح کام کرتا ہے۔

بعد کے ابواب میں مصنف نے اخلاقیات کی مطلق حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے اسکی اضافیت کو واضح کیا ہے اور بتایا ہے کہ صنعتی معاشرے میں اخلاقیات کیا رنگ اختیار کر رہی ہے۔

شادی کی تاریخ بتاتے ہوئے مصنف لکھتا ہے:

ٰ ٰ شادی اُس وقت ارتقاء پذیر ہوئی جب اقتصادی تعلقات بدل رہے تھے۔ خانہ بدوشی کے مرحلے میں مرد – خدا وند کا طاقت ور شکاری – اپنی لاٹھی اٹھاتا ہے اور دوسرے قبیلے میں جا گھستا ہے – کسی خُوب رُو دوشیزہ کو اس کے خیمے سے اٹھا کر لے آتا ہے۔

جب دولت اور امن میں اضافہ ہوا، اخلاقی اصول بہتر ہوئے، اور مرد لاٹھی کی بجائے کوئی قیمتی تحفہ یا طویل خدمت کا نذرانہ لے کر مطلوبہ عورت کے باپ کے پاس جانے لگا – تو گویا خرید کی شادی نے لُوٹ کی شادی کی جگہ لے لی۔ آج یہ دستور لُوٹ اور خرید کا عجیب و غریب ملغوبہ بن چکا ہے۔ٰ ٰ

بیسویں صدی کے ایک اہم مفکر اور فلسفی کے خیالات کو اردو خواں طبقے تک پہنچانے کے لئے یہ کتاب ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مترجم نے متن سے وفاداری کی دھُن میں بعض جگہ لفظی ترجمے کو ترجیح دی ہے اور کہیں کہیں تو جُملے کی غیر مانوس انگریزی ساخت کو بھی جوں کا توں رہنے دیا ہے۔ ایسے موقعوں پر اُکھڑی اُکھڑی نثر اگرچہ قِرات کی روانی کو متاثر کرتی ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ اُردو جملے کی روائتی ساخت میں نئے امکانات کی نشان دہی بھی کرتی ہے۔

Home | Terms And Conditions | FAQ's | Disclaimer | Privacy Policy | E Paper | World News | Sports News | Technology | Art | Entertainment | Contact Us