Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Urdu Pakistan (اردو)English (United Kingdom)
بینر

Business and Finance

Edit

Amount of short articles:

Amount of articles links:

You can order sections with dragging on list bellow:

  • Business and Finance
محفوظ کیجیے
منسوخ
Reset

کمپنی

جوہری توانائی کی جاپانی

Image - جوہری توانائی کی جاپانی

جاپانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جاپانی حکومت گزشتہ برس کے زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے جوہری بجلی گھر کی منتظم کمپنی کو مالی مشکلات پہ قابو پانے کے لی

پیر, 27 فروری 2012 Comments

معیشت

برطانوی معیشت بھی یورو ز

Image - برطانوی معیشت بھی یورو ز

کریڈٹ ریٹنگ کے لیے معروف امریکی ایجنسی موڈی نے برطانیہ کو ’منفی آؤٹ لک‘ کے زمرے میں شامل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ برطانوی معیشت اپنی ٹرپل اے کی پوزیشن گنوا

پیر, 27 فروری 2012 Comments

مالی معاملات

یورپی شرحِ نمو کے 2012ء

Image - یورپی شرحِ نمو کے 2012ء

یورپی یونین  کے معاشی پالیسیوں کے نگران ادارے نے خطے کی معاشی ترقی کے ہدف میں نمایاں کمی کردی  ہے جسے اٹلی اور یونان  کے سیاسی و معاشی بحران میں پھنسے یورپ کے

جمعہ, 23 دسمبر 2011 Comments

کاروباری خبریں

برطانوی معیشت بھی یورو زون بحران سےمتاثر

کریڈٹ ریٹنگ کے لیے معروف امریکی ایجنسی موڈی نے برطانیہ کو ’منفی آؤٹ لک‘ کے زمرے میں شامل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ برطانوی معیشت اپنی ٹرپل اے کی پوزیشن گنوا سکتی ہے۔اور‎سٹریا، جنہیں ٹرپل اے کا سٹیٹس حاصل ہے، ان کی بھی اسی طرح درجہ بندی کی گئی ہے۔

ایجنسی نے اپنے ایک بیان میں کہا ’یورو میں پیدا ہوئے بحران کے تناظر میں یوروپی یونین کے بعض ممالک کی قرض کی ریٹنگ کو اس مناسبت سے ایڈجسٹ کیا گیا ہے کہ وہ اس بحران سے کس حد تک متاثر ہو سکتے ہیں۔‘

برطانوی وزیر خزانہ جارج اوزبورن نے اس کے رد عمل میں کہا ’ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں برطانیہ بھی قرضوں سے بغیر متاثر ہوئے نہیں رہ سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا ’جو بھی یہ سوچتا ہے کہ برطانیہ اپنے قرضوں کے معاملے میں بغیر مشکلات کا سامنا کیے بچ جائے گا اس کے لیے یہ حقیقت سے آنکھیں چار کرنے برابر ہے۔‘

لیبر پارٹی میں معاشی امور کے رہنما ایڈ بازلز نے اس تبدیلی کو ’اہم تنبیہہ‘ قرار دیا ہے۔ ’ہم مستقل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ چانسلر کی ٹیکس میں اضافے اورخرچے میں بہت تیزي سے اور بہت زیادہ کٹوتی کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘

لیکن اقتصادی امور سے متعلق بی بی سی کی نامہ نگار سٹیفنی فلینڈر کا کہنا ہے کہ منفی آؤٹ لوک کا مطلب ’منفی واچ‘ نہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے معیشت میں گراوٹ کے پچاس فیصد امکانات ہوتے ہیں۔

جوہری توانائی کی جاپانی کمپنی کے لیے حکومتی بیل آؤٹ

جاپانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جاپانی حکومت گزشتہ برس کے زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے جوہری بجلی گھر کی منتظم کمپنی کو مالی مشکلات پہ قابو پانے کے لیے 13 ارب ڈالرز کا بیل آؤٹ دینے کی تیاری کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق 'ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی 'ٹیپکو' کے حکام 'نیوکلیئر ڈیمج لائیبلیٹی فیسی لیٹیشن فنڈ' نامی سرکاری ادارے کے عہدیداران کے ساتھ اس پیش کش کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں جس کے تحت ادارے نے کمپنی کے دو تہائی حصص خریدنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

معاہدے کے نتیجے نجی کمپنی کو قومیائے جانے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس مارچ میں آنے والےزلزلے اور سونامی سے کمپنی کے زیرِ انتظام 'فوکو شیما نیوکلیئر ڈائچی پاور پلانٹ' کے جوہری ری ایکٹرز متاثر ہوئے تھےجس کے بعد کمپنی کے حصص کی مالیت گر گئی تھی۔

کاغد سے بجلی پیدا کرنے والی بیٹری

جاپانی کمپنی سونی ایک ایسی بیٹری منظرعام پر لائی ہے جو عام کاغذ کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس نئی ٹیکنالوجی میں عام کاغذ کے ٹکڑوں کو چینی کی شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے اور چینی کو ایندھن کے طور پر استعمال کر کے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

بیٹری میں استعمال ہونے والے ٹینکالوجی میں حیاتی کیمیا کے ذریعے مواد کے اجزاء کو علیحدہ کر کے گلوکوز چینی میں تبدیل کیا جاتا ہے، بعد میں آکسیجن کے ذریعے اجزا کو مزید علیحدہ کیا جاتا ہے جو مواد کو الیکڑونس اور ہائیڈروجن ایون( کوئی ایٹم یا ایٹموں کا مجموعہ جس میں ایک یا زیادہ الیکڑون خارج ہوتے ہیں) میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

سونی کی ایڈوانس میٹریل لیبارٹری کے سربراہ یوچئی ٹوکیٹا کا کہنا ہے کہ’ایک عام ایندھن کا استعمال جیسا کہ مبارکباد کے پرانے کارڈز، جو اس کرسمس پر ہمیں لاکھوں کی تعداد میں موصول ہونگے، ان کے ذریعے بائیو بیٹری اتنی بجلی تیار کر سکتی ہے جس کی مدد سے ایک پنکھا چلایا جا سکتا ہے۔‘

بھارت: غیر ملکی سپر سٹورز کی مخالفت

بھارتی پارلیمان میں حکومت کی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس اور حزب اختلاف نے متحد ہو کر ملک میں بین الاقوامی کمپنیوں کو سپر مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دیے جانے کی مخالفت کی ہے۔

وفاقی کابینہ نے گزشتہ رات غیر ملکی کمپنیوں کو ’ملٹی برانڈ ریٹیل‘ کے شعبے میں اکیاون فیصد سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی تھی جس کے نتیجے میں کارفور، ٹیسکو اور وال مارٹ جیسی کمپنیاں ملک کے دس لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں میں اپنے سپر سٹور کھول سکیں گی۔

جمعہ کو حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے آنند شرما نے کہا کہ جب بین الاقوامی کمپنیاں ملک میں سرمایہ کاری کریں گی تو کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچےگا کیونکہ ملک میں بنیادی ڈھانچے کی سخت کمی ہے اور کسانوں کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ سرد خانوں کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے تباہ ہوجاتا ہے۔

لیکن حزب اختلاف اور ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ بڑی کمپنیاں کسانوں کا استحصال کریں گی اور کرانے کی چھوٹی دکانیں بند ہوجائیں گی کیونکہ وہ بڑی سپر مارکیٹوں سے مقابلہ نہیں کرپائیں گی۔

اس فیصلے کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے پریشان صارفین کو بہتر معیار کا سامان کم قیمت پر مل سکے گا، کسانوں کو اپنی پیداوار کے لیے بہتر دام ملیں گے، بھارتی کمپنیاں غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرسکیں گی جس سے ان کا کاروبار بڑھے گا اور اس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

یورپی شرحِ نمو کے 2012ء کے ہدف میں کمی

یورپی یونین  کے معاشی پالیسیوں کے نگران ادارے نے خطے کی معاشی ترقی کے ہدف میں نمایاں کمی کردی  ہے جسے اٹلی اور یونان  کے سیاسی و معاشی بحران میں پھنسے یورپ کے لیے ایک اور بری خبر قرار دیا جارہا ہے۔

یورپی یونین کے معاشی و مالی معاملات کے کمشنر اولی ریہن نے جمعرات کو برسلز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آئندہ برس یورپی یونین کی شرحِ نمو صرف 6ء0 فی صد جب کہ 17 ملکی 'یورو زون' کی 5ء0 فی صد رہنے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ یہ پیش گوئی  یورو کی آئندہ برس رہنے والی شرحِ ترقی کے ابتدائی اندازے سے کہیں کم ہے جس کے بارے میں رواں برس کے آغاز پر امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ 8ء1 فی صد کی سطح پر رہے گی۔

کمشنر ریہن نے یورپ کو درپیش مالی مشکلات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ  یورپ میں 'جی ڈی پی' کی شرح میں رواں برس  کسی اضافے کا امکان نہیں بلکہ اس کے برعکس بعض ممالک کی 'جی ڈی پی' میں کمی آنے کا اندیشہ ہے۔

کمشنر نے یورپی یونین کے پانچ اراکین – بیلجئم، قبرص، ہنگری، مالٹا اور پولینڈ – کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اپنے بجٹ میں کٹوتی نہ کی تو انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

Home | Terms And Conditions | FAQ's | Disclaimer | Privacy Policy | E Paper | World News | Sports News | Technology | Art | Entertainment | Contact Us