Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Urdu Pakistan (اردو)English (United Kingdom)
بینر

کمپنی

جوہری توانائی کی جاپانی کمپنی کے لیے حکومتی بیل آؤٹ

جاپانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جاپانی حکومت گزشتہ برس کے زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے جوہری بجلی گھر کی منتظم کمپنی کو مالی مشکلات پہ قابو پانے کے لیے 13 ارب ڈالرز کا بیل آؤٹ دینے کی تیاری کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق 'ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی 'ٹیپکو' کے حکام 'نیوکلیئر ڈیمج لائیبلیٹی فیسی لیٹیشن فنڈ' نامی سرکاری ادارے کے عہدیداران کے ساتھ اس پیش کش کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں جس کے تحت ادارے نے کمپنی کے دو تہائی حصص خریدنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

معاہدے کے نتیجے نجی کمپنی کو قومیائے جانے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس مارچ میں آنے والےزلزلے اور سونامی سے کمپنی کے زیرِ انتظام 'فوکو شیما نیوکلیئر ڈائچی پاور پلانٹ' کے جوہری ری ایکٹرز متاثر ہوئے تھےجس کے بعد کمپنی کے حصص کی مالیت گر گئی تھی۔

کاغد سے بجلی پیدا کرنے والی بیٹری

جاپانی کمپنی سونی ایک ایسی بیٹری منظرعام پر لائی ہے جو عام کاغذ کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس نئی ٹیکنالوجی میں عام کاغذ کے ٹکڑوں کو چینی کی شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے اور چینی کو ایندھن کے طور پر استعمال کر کے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

بیٹری میں استعمال ہونے والے ٹینکالوجی میں حیاتی کیمیا کے ذریعے مواد کے اجزاء کو علیحدہ کر کے گلوکوز چینی میں تبدیل کیا جاتا ہے، بعد میں آکسیجن کے ذریعے اجزا کو مزید علیحدہ کیا جاتا ہے جو مواد کو الیکڑونس اور ہائیڈروجن ایون( کوئی ایٹم یا ایٹموں کا مجموعہ جس میں ایک یا زیادہ الیکڑون خارج ہوتے ہیں) میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

سونی کی ایڈوانس میٹریل لیبارٹری کے سربراہ یوچئی ٹوکیٹا کا کہنا ہے کہ’ایک عام ایندھن کا استعمال جیسا کہ مبارکباد کے پرانے کارڈز، جو اس کرسمس پر ہمیں لاکھوں کی تعداد میں موصول ہونگے، ان کے ذریعے بائیو بیٹری اتنی بجلی تیار کر سکتی ہے جس کی مدد سے ایک پنکھا چلایا جا سکتا ہے۔‘

دوسری بڑی بھارتی فضائی کمپنی کو ریکارڈ خسارہ

بھارت کی دوسری سب سے بڑی فضائی کمپنی کنگ فشر نے بھاری خسارے کا اعلان کیا ہے۔

بھارتی ایئر انڈسٹری کا شمار دنیا میں  تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ہوابازی صنعتوں میں ہوتا ہے۔  مگر اس کی ایک فضائی کمپنی کو لاکھوں ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

کنگ فشر ایئرلائنز کے چیئرمین وجے مالیا نے منگل کے روز کہا کہ جولائی تاستمبر کی سہ ماہی میں کمپنی کو تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا خسارہ ہوا، جو ایک سال قبل اسی مدت کے دوران ہونے والے خسارے سے تقریباً دگنا ہے۔

بھارتی فضائی کمپنی نے اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے گذشتہ ہفتے اپنی سینکڑوں پروازیں منسوخ کردیں تھیں۔ کنگ فشر کے خسارے کی مالیت تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر ہے اور وہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں بھی وقت پر ادا نہیں کرپارہی۔

وجے مالیا کا کہناہے کہ خسارے کی اصل وجہ ایندھن کی اونچی قیمتیں اور جہاز اڑانے پر اٹھنے والے دوسرے اخراجات ہیں۔

بھارت میں طیاروں میں استعمال ہونے والے تیل کی قیمت  بڑے پیمانے پر ٹیکسوں کے باعث عالمی قیمتوں سے تقریباً 70 فی صد زیادہ ہے۔

گذشتہ سال بڑھتے ہوئے افراط زر پر قابو پانے کے لیے بھارت نے سود کی شرح میں اضافہ کردیا تھا ، جس سے دوسری صنعتوں کے ساتھ ہوابازی کو بھی کافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

رشما پاور کمپنی 4.5 ارب روپے ادا کرے

سپریم کورٹ نے نجی پاور کمپنی رشما پاور پلانٹ کے ذمہ ساڑھے چار ارب روپے اٹھارہ نومبر تک ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ رقم امریکی ڈالرز میں ادا کی گئی تھی اس لیے اس کو اُسی کرنسی میں ہی واپس کیا جائے اور اس پر سُود بھی ادا کیا جائے۔

حکومت نے ڈھائی سال قبل مذکورہ پاور کمپنی کو اربوں روپے سولہ فیصد مارک اپ پر بینک سے قرضہ لیکر ادا کیے تھے۔

عدالت عظمیٰ نے یہ احکامات کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق از خود نوٹس اور اس سلسلے میں دائر مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ رشما پاور کمپنی معاہدے کے مطابق کام کرنے میں ناکام رہی ہے۔

مذکورہ پاور کمپنی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے مؤکل نے ڈھائی ارب روپے ادا کردیے ہیں جس پر بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ ساڑھے چار ارب روپے بطور ایڈوانس دیے گیے تھے اور اس پر مارک اپ بھی بنتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ رشما کمپنی کو ڈھائی سال پہلے رقم ایڈوانس میں دی گئی تھی لیکن کسی نے بھی اس کمپنی سے پوچھنے کی جسارت نہیں کی کہ وہ ابھی تک بجلی پیدا کیوں نہیں کر رہی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیپرا جو ایک قومی ادارہ ہے اُس کے وکیل نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومتی ادارے نیپرا کی طرف سے متعلقہ حکام سے کہا گیا تھا کہ وہ ان معاہدوں پر نظر ثانی کریں لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

آئی فون فو ایس، کمزور بیٹری پر تنقید

مارکیٹ میں آنے کے چند ہفتوں میں ہی ایپل کمپنی کے جدید موبائل فون آئی فون فور ایس کو کمزور بیٹری پر تنقید کا سامنا ہے۔

ہزاروں صارفین نے فور ایس کی کم بیٹری لائف کی شکایت کی ہے اور خاص طور پر اُن لوگوں کے آئی فون کے مسائل بڑھ گئے جنہوں نے آئی او ایس فائیو کے ساتھ فور ایس کا سافٹ وئیر اپ گریڈ کیا ہے۔

ایپل کمپنی نے کہا کہ وہ اِس مسئلے پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہے۔

آئی فون فور ایس کی بغیر کسی استعمال کے بیٹری لائف دو سو گھنٹے بتائی گئی تھی لیکن بعض صارفین نے شکایت کی ہے کہ اُن کے آئی فون کی بیٹری پندرہ فیصد فی گھنٹہ کی رفتار سے ختم ہوتی ہے۔

ایپل کمپنی کے فورمز پر آئی فون فور ایس کی بیٹری کے مسئلے پر بھرپور مباحثے جاری ہیں اور ایک بلاگر نے لکھا کہ اُن کے فون کی بیٹری کا مسئلہ اس وقت ختم ہوا جب انہوں نے آٹو میٹک ٹائم زون سیٹنگ کو بند کر دیا کیونکہ بقول اُن کے’ آئی فون فور ایس کا آپریٹنگ سسٹم ہر وقت ٹائم کو درست کرنے میں لگا رہتا ہے جس کی وجہ سے بیٹری کی چارجنگ جلد ختم ہو جاتی ہے۔‘

Home | Terms And Conditions | FAQ's | Disclaimer | Privacy Policy | E Paper | World News | Sports News | Technology | Art | Entertainment | Contact Us