Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Urdu Pakistan (اردو)English (United Kingdom)
بینر

معیشت

برطانوی معیشت بھی یورو زون بحران سےمتاثر

کریڈٹ ریٹنگ کے لیے معروف امریکی ایجنسی موڈی نے برطانیہ کو ’منفی آؤٹ لک‘ کے زمرے میں شامل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ برطانوی معیشت اپنی ٹرپل اے کی پوزیشن گنوا سکتی ہے۔اور‎سٹریا، جنہیں ٹرپل اے کا سٹیٹس حاصل ہے، ان کی بھی اسی طرح درجہ بندی کی گئی ہے۔

ایجنسی نے اپنے ایک بیان میں کہا ’یورو میں پیدا ہوئے بحران کے تناظر میں یوروپی یونین کے بعض ممالک کی قرض کی ریٹنگ کو اس مناسبت سے ایڈجسٹ کیا گیا ہے کہ وہ اس بحران سے کس حد تک متاثر ہو سکتے ہیں۔‘

برطانوی وزیر خزانہ جارج اوزبورن نے اس کے رد عمل میں کہا ’ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں برطانیہ بھی قرضوں سے بغیر متاثر ہوئے نہیں رہ سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا ’جو بھی یہ سوچتا ہے کہ برطانیہ اپنے قرضوں کے معاملے میں بغیر مشکلات کا سامنا کیے بچ جائے گا اس کے لیے یہ حقیقت سے آنکھیں چار کرنے برابر ہے۔‘

لیبر پارٹی میں معاشی امور کے رہنما ایڈ بازلز نے اس تبدیلی کو ’اہم تنبیہہ‘ قرار دیا ہے۔ ’ہم مستقل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ چانسلر کی ٹیکس میں اضافے اورخرچے میں بہت تیزي سے اور بہت زیادہ کٹوتی کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘

لیکن اقتصادی امور سے متعلق بی بی سی کی نامہ نگار سٹیفنی فلینڈر کا کہنا ہے کہ منفی آؤٹ لوک کا مطلب ’منفی واچ‘ نہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے معیشت میں گراوٹ کے پچاس فیصد امکانات ہوتے ہیں۔

بھارت: غیر ملکی سپر سٹورز کی مخالفت

بھارتی پارلیمان میں حکومت کی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس اور حزب اختلاف نے متحد ہو کر ملک میں بین الاقوامی کمپنیوں کو سپر مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دیے جانے کی مخالفت کی ہے۔

وفاقی کابینہ نے گزشتہ رات غیر ملکی کمپنیوں کو ’ملٹی برانڈ ریٹیل‘ کے شعبے میں اکیاون فیصد سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی تھی جس کے نتیجے میں کارفور، ٹیسکو اور وال مارٹ جیسی کمپنیاں ملک کے دس لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں میں اپنے سپر سٹور کھول سکیں گی۔

جمعہ کو حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے آنند شرما نے کہا کہ جب بین الاقوامی کمپنیاں ملک میں سرمایہ کاری کریں گی تو کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچےگا کیونکہ ملک میں بنیادی ڈھانچے کی سخت کمی ہے اور کسانوں کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ سرد خانوں کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے تباہ ہوجاتا ہے۔

لیکن حزب اختلاف اور ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ بڑی کمپنیاں کسانوں کا استحصال کریں گی اور کرانے کی چھوٹی دکانیں بند ہوجائیں گی کیونکہ وہ بڑی سپر مارکیٹوں سے مقابلہ نہیں کرپائیں گی۔

اس فیصلے کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے پریشان صارفین کو بہتر معیار کا سامان کم قیمت پر مل سکے گا، کسانوں کو اپنی پیداوار کے لیے بہتر دام ملیں گے، بھارتی کمپنیاں غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرسکیں گی جس سے ان کا کاروبار بڑھے گا اور اس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

عالمی معیشت کے اقدامات کی ضرورت ہے

وزیر اعظم من موہن سنگھ نے یورو زون میں قرض کے بحران پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یورو زون اور دوسرے خطوں میں اقتصادی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری اورمشکل فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے۔

اُنھوں نے امید ظاہرکی ہے کہ بین الاقوامی معیشت کو پٹڑی پر واپس لانے کے لیے ایک مضبوط اور مربوط مؤقف اختیار کریں گے۔

وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے گروپ 20کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس کے شہر کینس روانہ ہونے سے قبل ایک بیان میں کہا کہ چند روز قبل یورپی یونین اور یورو زون کے سربراہ اجلاسوں نے مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کرنے میں اگرچہ مدد کی ہے، تاہم، مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

من موہن سنگھ نے یوروزون کو ایک تاریخی پروجیکٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی خواہش ہے کہ یوروزون خوشحال ہو، کیونکہ یورپ کی خوشحالی میں ہماری خوشحالی مضمر ہے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ بھارت جیسے ترقی پذیر معیشت کے لیے سازگار عالمی اقتصادی ماحول کی ضرورت ہے، تاکہ وہ درپیش چیلنجوں کا مطابلہ کرسکے۔

’عالمی معیشت ایک نئے خطرناک دور میں‘

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت ایک نئے خطرناک دور میں داخل ہو گئی ہے۔

تنظیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور يورو زون میں مسلسل بڑھتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی خدشات کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر کساد بازاری کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو دنیا کی دیگر معیشتیں بھی اس سے بری طرح متاثر ہوں گی۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پوئرز نے یورو زون کی تیسری بڑی معیشت اٹلی کی ریٹنگ میں کمی کر دی ہے۔

اس سے قبل پیر کو آئی ایم ایف نے یونان کو متنبہ کیا تھا کہ وہ معاہدے کے مطابق اصلاحات نافذ کرے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو اسے اکتوبر کے لیے مقررہ آٹھ ارب یورو کی امدادی قسط نہیں دی جائے گی۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں نے موجودہ حالات سے نکلنے کی جو کوششیں کی ہیں وہ دیرپا ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق سنہ دو ہزار گیارہ میں دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں صرف جرمنی اور کینیڈا ہی ایسے ملک ہیں جہاں ترقی کی شرح دو فیصد سے زیادہ رہےگی اور سنہ دو ہزار بارہ میں جاپان کے علاوہ کسی اور ملک میں ترقی کی شرح مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہو گی۔

امریکی معیشت کا منفی رجحان برقرار

بدھ کے روز امریکی معیشت کے بارے میں منظر عام پر آنے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوا ہے کہ روزگار کی صورت حال میں مزید خرابی آئی ہے اور کاروباروں کے افزائش کی رفتار بھی سست ہوئی ہےجب کہ صنعتوں کو ملنے والے آرڈرز میں اضافہ ہواہے۔

جولائی میں ٹرانسپورٹ سے متعلق آلات کی مانگ میں اضافے کے پیش نظر جو توقع کی جارہی تھی، اگست میں ملنے والے آرڈرز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ رہی۔

محکمہ تجارت کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوا ہے کہ فیکٹریوں کو ملنے والے آرڈرز میں 2.4 فی صد اضافہ ہوا جو اس سے ایک ماہ قبل کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی کی سمت اشارہ ہے ، جس میں آرڈرز کی تعداد میں کمی واقع ہوئی تھی۔

ایک کاروباری تحقیقی گروپ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگست میں امریکہ  میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کا رجحان جاری رہا، لیکن یہ رفتار جولائی کے مقابلے میں کم تھی۔

ایک اورادارے اے ڈی پی کا کہناہے کہ اگست کے مہینے میں 91 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں ، جب کہ یہ تعداد جولائی کے مقابلے میں کم تھی۔

میڈیا کی جانب سے کرائے جانے والی جائزوں کی بنیاد پر ماہرین کاکہناہے کہ اگست میں سرکاری اور پرائیویٹ شعبوں میں ملازمتوں میں حقیقی اضافہ 70 ہزار ہے۔

Home | Terms And Conditions | FAQ's | Disclaimer | Privacy Policy | E Paper | World News | Sports News | Technology | Art | Entertainment | Contact Us