Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Urdu Pakistan (اردو)English (United Kingdom)
بینر

مصنوعی دماغی خلیوں کا ذخیرہ

آکسفورڈ یونیورسٹی میں محقیقین نے اعصابی امراض میں مبتلا مریضوں سے مصنوعی طور تیارکیے گئے دماغ کے سیلز کے لیے ایک بینک قائم کرنے کا آغاز کیا ہے۔

اس کے لیے وہ مخصوص نئے خلیے کی تکنیک کا استعمال کر رہے ہیں جس کے ذریعے مریض کے جلد کے چھوٹے سے ٹکڑے کو دماغ کے ٹکڑے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

ایسا پہلی بار بڑے پیمانے پر تحقیقات کے لیے کیا جارہا ہے جس کا مقصد پارکنسن کے مرض کا علاج دریافت کرنا ہے۔ تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اعصابی خلیے کیسے خراب ہونا شروع ہوتے ہیں وہ اس کا تجزیہ کرسکتے ہیں۔

اس کے لیے جو پہلا اعصابی خلیہ تیار کیا گيا ہے وہ چھپن سالہ آکسفورڈشائر کے ایک شخص ڈیرک انڈروڈ کی جلد سے حاصل ہونے والے خلیوں سے تیار کیا گيا ہے۔ اعصابی بیماری کے سبب انہیں وقت سے ریٹائر ہونا پڑا تھا۔

آکسفورڈ کے ریڈکلف ہسپتال کی ڈاکٹر مشیل ہو کا کہنا ہے کہ اس عمل کا پہلا قدم اعصابی امراض میں مبتلا مریضوں کی جلد سے تیار دماغی خلیے اور صحت مند افراد کے جلد سے تیار کیے گئے خلیوں میں موازنہ کرنا ہے۔

’پہلی بار ہم خلیوں کو خراب ہونے سے پہلے دیکھ سکتے ہیں اور تبدیلی کے ابتدائی مراحل کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔‘

Add comment


Security code
Refresh

Home | Terms And Conditions | FAQ's | Disclaimer | Privacy Policy | E Paper | World News | Sports News | Technology | Art | Entertainment | Contact Us