امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ پاکستان سے لے کر یمن تک القاعدہ کے کارکن فرار کے راستے پر ہیں جنہیں معلوم ہے کہ وہ امریکہ کی پہنچ سے بچ نہیں سکتے۔
انہوں نے کہا کہ عراق کی جنگ کے خاتمے سے امریکہ کو اپنے دشمنوں پر فیصلہ کن وار کرنے کا موقع ملا ہے۔
امریکی کانگریس سے اپنے سالانہ خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے نو برسوں میں ایسا پہلی ہوا ہے کہ عراق کی لڑائی میں کوئی امریکی فوجی شامل نہیں ہے اور پچھلے دو عشروں میں بھی ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اسامہ بن لادن امریکہ کے لیے خطرہ نہیں رہا۔
ان کے بقول القاعدہ کے زیادہ تر بڑے جنگجو شکست کھا چکے ہیں، طالبان کا زور ٹوٹ چکا ہے اور افغانستان میں تعینات کچھ فوجیں واپس آنا شروع ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی طاقتور حیثیت میں رہتے ہوئے افغانستان کی جنگ کو ختم کرنا شروع کردیا ہے۔ وہاں سے اب تک دس ہزار امریکی فوجی وطن واپس آچکے ہیں جبکہ تیئس ہزار مذید امریکی فوجی اس سال موسم گرما کے اختتام تک افغانستان چھوڑ دیں گے۔