سپریم کورٹ نے متنازع میمو کیس کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والے تین رکنی کمیشن کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کردی ہے جبکہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دے دی ہے۔
عدالتِ عظمٰی نے امریکی شہری منصور اعجاز کو سیکورٹی خدشات کے پیش نظر ان کا بیان بیرونِ ملک ریکارڈ کرنے سے متعلق دائر کی جانے والی درخواست مسترد کردی ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اس عرصے کے دوران تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ عدالت کو بھجوائی جائے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق سے استفسار کیا کہ کمیشن کو کتنی مہلت دی جائے جس میں وہ اپنی تحقیقات مکمل کرسکے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ عدالت پر منحصر ہے کہ کمیشن کو کتنی مہلت ملنی چاہیے تاہم انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
چیف جسٹس کے مطابق متنازع میمو کے اہم کردار منصور اعجاز نے انہیں دو روز قبل ایک خط اور دستاویزات بھیجی ہیں جنہیں خفیہ رکھنے کی استدعا کی گئی ہے تاہم ’ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ خط کتنا مصدقہ ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ان دستاویزات کو سربمہر کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بہتر ہے کہ منصور اعجاز نے جو بھی دستاویزات عدالت میں پیش کرنی ہیں وہ اپنے وکیل کے ذریعے بھجوائیں۔
اٹارنی جنرل نے عدالتی کمیشن کی تحقیقات سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلیک بیری کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے کنیڈین ہائی کمیشن کے ذریعے متعلقہ کمپنی کو خط لکھا گیا تھا جو انہوں نےمسترد کردیا۔ مولوی انوار الحق کا کہنا ہے کہ اس کمیٹی کو ایک بار پھر خط لکھا جائے گا۔