امریکی صدر براک اوباما نے تصدیق کی ہے کہ امریکی جاسوس طیارے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مشتبہ شدت پسندوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
اوباما نے ان حملوں کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی قرار دیا۔
گوگل اور یو ٹیوب کا ہینگ آؤٹ شروع ہونے سے پہلے ایک لاکھ تیس ہزار سوالات آئے۔ چھ افراد نے صدر اوباما سے آن لائن سوالات پوچھے۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ڈرون طیاروں کے ذریعے بیشتر حملے پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا میں کیے گئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے القاعدہ کے مشتبہ دہشت گرووں کے خلاف کیے گئے جو افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں موجود تھے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ ڈرون حملے غیر قانونی، خلافِ منشا اور ناقابلِ قبول ہیں۔ ’ہم اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی کو درگزر نہیں کر سکتے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنہ دو ہزار گیارہ کے دوران پاکستان میں چونسٹھ ڈرون حملے کیے گئے جبکہ سنہ دو ہزار دس میں ان کی تعداد ایک سو ایک تھی۔
پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج ہوتا رہتا ہے۔ ان حملوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان میں زیارہ تر بے گناہ افراد نشانہ بنتے ہیں۔