Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Urdu Pakistan (اردو)English (United Kingdom)
بینر

توہینِ عدالت کیس: وزیراعظم پر فرد جرم عائد

سپریم کورٹ نے پیر کو پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے میں فردِ جُرم عائد کر دی ہے۔

جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو استغاثہ مقرر کرتے ہوئے سولہ فروری تک دستاویزات جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ تاہم وزیرِ اعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے جواب داخل کروانے کے لیے عدالت سے چوبیس فروری تک کا وقت مانگا۔

مقدمے کی آئندہ سماعت بائیس فروری کو ہوگی جس میں اٹارنی جنرل کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ ستائیس فروری کو وکیل صفائی وزیرِ اعظم کی جانب سے شہادتیں اور دستاویزات پیش کریں۔ اٹھائیس فروری کو ہونے والی سماعت میں وزیرِاعظم کی جانب سے پیش کیے جانے والے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔

قانونی ماہر ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزا ہوجاتی ہے تو نئے وزیر اعظم پر بھی این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل کرنا لازمی ہوگا ورنہ اُنہیں بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

یوسف رضا گیلانی سزا ملنے کی صورت میں وزیراعظم بھی نہیں رہیں گے بلکہ اُن پر کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے اور پارلیمان کا رکن بننے پر پانچ سال کی پابندی بھی عائد کی جاسکتی ہے۔

وزیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد کہا کہ یوسف رضا گیلانی پاکستان کے منتخب وزیرِ اعظم ہیں، انہیں عدالت سے توقع ہے کہ اُن کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزیرِ اعظم آئین کے حلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتے، وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں سمجھتے ہیں۔‘

Add comment


Security code
Refresh

Home | Terms And Conditions | FAQ's | Disclaimer | Privacy Policy | E Paper | World News | Sports News | Technology | Art | Entertainment | Contact Us