بین الاقوامی امدادی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے پچھلے سال خوراک کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے باعث ترقی پذیر ممالک میں لاکھوں والدین نے اپنے بچوں کی خوراک میں کمی کردی۔
تنظیم کے مطابق چھ میں ایک خاندان کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے بچوں کا سکول چھڑوا کر اپنے ساتھ کام پر لگا لیا تاکہ منگائی میں خوراک پوری کی جا سکے۔
بین الاقوامی تنظیم کے مطابق خوراک کی کمی کے باعث اگلے پندرہ برسوں میں پانچ سو ملین بچے جسمانی اور ذہنی طور پر متاثر ہوں گے۔
سیو دی چلڈرن کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بچوں میں غذائی قلت میں اضافہ ہوا ہے اور اس وجہ سے بچوں کی اموات پر قابو پانے کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ غریب ممالک میں غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
سیو دی چلڈرن کی جانب سے بھارت، پاکستان، نائیجیریا، پیرو اور بنگلہ دیش میں کیے جانے والے سروے میں معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر خاندان گوشت، دودھ یا سبزیاں نہیں خرید سکتے۔