دو ہزار دو میں ہوئے بالی دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ سمجھے جانے والے عمر پٹیک کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں قیام کے دوران کبھی القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے نہیں ملے۔
خبر رسان ادارے اے پی کو ملنے والی ایک ویڈیو کے مطابق جس میں عمر پٹیک سے تفتیش کی جا رہی ہے عمر کا کہنا تھا کہ ’ایبٹ آباد میں ان دونوں کا بیک وقت قیام محض ایک اتفاق تھا۔‘
عمر پٹیک کے وکیل کا بھی کہنا تھا کہ ’عمر پٹیک اور اسامہ بن لادن کا ایک ہی عرصے میں ایبٹ آباد میں قیام محض ایک اتفاق تھا۔‘
وکیل صفائی اصل الدین ہتجانی کا کہنا تھا ’ وہ پاکستان اپنے منصوبے کے مطابق افغانستان جانے کے لیے گیا تھا۔ اس نے کبھی اسامہ بن لادن سے ملنے کا ارادہ نہیں کیا۔‘
عمر پٹیک کو جنوری دو ہزار گیارہ میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا جہاں بعد میں ایک امریکی آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا۔ عمر پٹیک پر قتل کی منصوبہ بندی، بم بنانے، اور غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات ہیں۔ ان میں سے بعض پر موت کی سزا ہے۔
پیر کے روز وکیل صفائی نے قتل کے الزات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ان کا موکل ان حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث نہیں ہے۔