Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Urdu Pakistan (اردو)English (United Kingdom)
بینر

مصیبت

کوئٹہ: فائرنگ سے سینیئر پولیس افسر ہلاک

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک سینیئر پولیس افسرہلاک ہوگیا ہے۔

کوئٹہ سے نامہ نگار کے مطابق منگل کی صبح سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ میں ایک موٹرسائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے ایس ایس پی (سی آئی ڈی) شاہنواز خان پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ واک کرنے کے بعد واپس گھر کی طرف جارہے تھے۔

اس واقعہ کے بعد پولیس نے شہر کی ناکہ بندی کرکے ملزمان کی تلاش شروع کر دی لیکن آخری اطلاع تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی اورنہ ہی کسی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

دوسری جانب پولیس لائن میں ایس ایس پی شاہنواز خان کی نمازجنازہ ادا کر دی گئی جس میں انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان راؤ ہاشم کے علاوہ دیگر اعلیٰ پولیس افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی سریاب اور سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے میں پولیس گاڑیوں پر حملے ہوئے ہیں جن میں اب تک کئی پولیس اہلکار اور افسران ہلاک ہو چکے ہیں۔

گیاری: موسم گرم، مزید تودے گرنے کا امکان

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سیاچن کے گیاری سیکٹر میں درجہ حرات میں اضافے کے بعد تودے گرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

دریں اثناء پاکستان فوج کے ذرائع کے مطابق گیاری سیکٹر میں جاری امدادی آپریشن میں آج منگل کو اہم پیش رفت کی توقع ہے۔

گیاری میں سات اپریل کو پاکستانی فوج کی ناردرن لائٹ انفنٹری کا بٹالین ہیڈکوارٹر برفانی تودے کی زد میں آنے سے ایک سو اٹھائیس فوجی اور گیارہ شہری برف تلے دب گئے تھے۔

منگل کو فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق دونوں ٹیموں نے پاکستان فوج کی پہلے سے نشاہدہی کیے جانے والے مقامات کی تصدیق کی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی دوران امریکہ اور ناروے کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے گیاری پہنچ چکی ہیں۔

تلاش اور امدادی آپریشن پوری رفتار سے چوبیس گھنٹے جاری ہے جبکہ علاقے میں درجہ حرات میں اضافے سے تودے گرنے کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے تاہم اس صورتحال سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

گیاری میں کھودی گئی سرنگ کو تھوڑا سا وسیع کیا گیا ہے تاہم سرنگ میں زہریلی گیسوں کی مودجوگی سے کھدائی کا کام متاثر ہوا۔

شن جیانگ میں تشدد، بارہ ہلاک

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شمال مغربی صوبے شِن جیانگ کے شہر کاشغر کے نزدیک تشدد کے واقعات میں بارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شینوا نیوز ایجنسی کے مطابق دس افراد کو فسادیوں نے ہلاک کیا جبکہ دو پولیس کی گولیوں سے ہلاک ہوئے۔

شمال مغربی صوبے میں 2009 کے فساد کے بعد سیکورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ یہ فساد سب سے بڑے مسلم اکثریتی گروہ ویگر اور ہن چینی مہاجروں کے درمیان ہوا تھا۔

حکام کے مطابق اس فساد میں کم از کم 200 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت ہنوں کی تھی۔

منگل کو ہونے والا تشدد ایک مارکیٹ میں ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ابھی بھی کچھ فسادیوں کو ڈھونڈ رہی ہے۔

چین نے شِن جیانگ پر بہت سرمایہ کاری کی ہے اور ملک کی بڑھتی ہوئی اقتصادی ترقی کے لیے اس شمال مغربی صوبے کے تیل اور گیس کے ذخائر بڑے معنی رکھتے ہیں۔

Istanbul blaze kills 11 employees

There are no translations available.

A minimum of 11 employees have left after fire taken via a tent in a building site within the Turkish town of Istanbul in latest breaking news.

The blaze happened within the district of Esenyurt in the construction site of the shopping center.

TV footage demonstrated fire deck hands, working under floodlights within the snow, recuperating the physiques from the employees in the ruins from the tent.

Esenyurt Mayor Necmi Kadioglu stated the suspected reason for the fireplace was an electric heater.

Images in the scene demonstrated adjacent tents had been burned lower.

"Between 11 and 14 employees are thought to possess died within the fire," Mr Kadioglu told condition-run TRT television in the scene.

Deadly blasts rock Nigerian city

There are no translations available.

Four or five individuals have been wiped out within the northern Nigerian town of Gombe inside a gun and explosive device attack on the prison and police station, authorities say.

Shop dead they offended the attack that they attributed to the radical Islamist sect Boko Haram.

The particular groups has completed deadly attacks and assassinations across northern Nigeria in recent several weeks.

Previously Friday, gunmen wiped out five people in a mosque in Kano, the primary city in northern Nigeria, police stated.

A police spokesperson stated the attackers showed up on motorcycles and opened up fire at worshippers.

Nigeria is going through an outburst in ethnic and sectarian violence.

Gombe has formerly been specific by Boko Haram. In The month of january, a panic attack on the chapel within the city left six worshippers dead.

Within the latest attack, police stated they effectively defended a federal prison and police station following multiple explosions along with a two-hour gun fight.

Authorities stated four ordinary people were wiped out and police and military officials were hurt.

A week ago Boko Haram stated it had been behind an identical attack on the prison in Kogi Condition which freed a lot more than 100 criminals.

Home | Terms And Conditions | FAQ's | Disclaimer | Privacy Policy | E Paper | World News | Sports News | Technology | Art | Entertainment | Contact Us