Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Urdu Pakistan (اردو)English (United Kingdom)
بینر

سیا ست

پاکستان آسانیاں پیدا کرنے والا ملک

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے راستے نیٹو کی سپلائی لائن کی بحالی کے لیے بات چیت میں کافی پیش رفت ہوئی ہے لیکن فریقین اب بھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔

ادھر پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان اور وہاں موجود کثیر الاقومی فوج کے لیے مشکلات کھڑی کرنے والا نہیں بلکہ آسانیاں پیدا کرنے والا ملک بننا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اس کے اِس کردار کی قدر کی جائے۔

نیٹو کی طرف سے پاکستان کو شکاگو کانفرنس میں شرکت کی دعوت کے بارے میں سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ ’شکاگو کانفرنس کے دعوت نامے کے بارے میں جو بات میں نے جمعہ کو کہی تھی اس کے سوا میرے پاس کوئی نئی اطلاع نہیں ہے۔ آپ نے سنا تھا کہ نیٹو کے سیکرٹری راسموسین نے اس بارے میں کیا کہا تھا، اس کے علاوہ میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے‘۔

اس سے قبل پیر کو اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستانی وزیرِ خارجہ نے افغانستان موجود نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے جانے والی رسد کی بحالی کے بارے میں ایک سوال پر کہا تھا کہ رسد کی بحالی کےلیے امریکہ سے مذاکرات جاری ہیں۔

وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے دس سال تک نیٹو کی رسد کا کوئی معاوضہ نہیں لیا جبکہ اس کا ہمارے انفراسٹرکچر اور امن و امان کی صورتحال پر برا اثر پڑا۔ ہم نے یہ سب اس لیے کیا کیونکہ ہم افغانستان اور وہاں موجود بیالیس ممالک کے لیے مشکلات پیدا کرنے والا ملک نہیں بلکہ آسانیاں پیدا کرنے والے ملک کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان اپنا یہ کردار ادا کرتا رہے گا اور مستقبل میں ہماری خواہش ہے کہ ہمارے اس کردار کو نہ صرف پہچانا جائے بلکہ اس کی قدر بھی کی جائے‘۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ نیٹو سپلائی کی بندش کی وجہ امریکی حملے میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر ردعمل تھا۔ ’ہم نے غیر منصفانہ حملے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کیا۔ اب ہم امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت انداز میں بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔

بیلسٹک میزائل حتف تین کا کامیاب تجربہ

پاکستان نے جوہری ہتھیار لیجانے کی صلاحیت کے حامل اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل حتف تین کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق حتف تین’غزنوی‘ بلسٹک میزائل اپنے ساتھ روایتی اور جوہری ہتھیار لیجانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

میزائل کے تجربے کی کامیابی اور درستگی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائین نے سائنسدانوں کو مبارکباد دی۔

انہوں نے اس موقع پر کہا کہ مسلح افواج پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس کے علاوہ وزیراعظم گیلانی اور صدر زرداری میزائل کے کامیاب تجربے پر سٹریٹیجک فورس کمانڈ، سائنسدانوں اور انجینیئرز کو مبارکباد دی ہے۔

اس سے پہلے گزشتہ مارہ اپریل کی پچیس تاریخ کو درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حتف چہارم کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔

اس تجربے سے چند دن پہلے بھارت نے انیس اپریل کو جوہری ہتھیار لے جانے والے بین البراعظمی بلسٹک میزائل اگنی پانچ کا تجربہ کیا ہے جس کی مار پانچ ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے۔

’القاعدہ مشترکہ دشمن اطلاع ہے تو فراہم کریں‘

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ اگر القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں کوئی مخصوص انٹیلی جنس اطلاع ہے تو حکومت کو فراہم کی جائے۔

یہ بات انہوں نے پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

اسلام آباد میں نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ ہیلری کلنٹن کا ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں بھارت میں بیٹھ کر بیان دینے سے بظاہر لگتا ہے ایک طرف انہوں نے پاکستان پر دباؤ ڈالا ہے تو دوسری طرف بھارت کو خوش کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سے بات چیت چل رہی ہے، ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستان اور امریکہ کا اپنا اپنا موقف ہے اور کسی نتیجے پر پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع احمد مختار کے اس بیان پر کہ اگر نیٹو سپلائی بحال نہ ہوئی تو پاکستان پر پابندیاں لگ سکتی ہیں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، وزیر خارجہ نے کہا انہیں اس بارے میں علم نہیں ہے اور وزیر دفاع ہی مزید کچھ بتا سکتے ہیں۔

قبل ازیں قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمان کی کمیٹی کو وزارت خارجہ، دفاع اور خزانہ کے اعلیٰ اہلکاروں نے بریفنگ دی۔ جس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے کہا کہ وہ مطمئن ہیں کہ حکومت پارلیمانی سفارشات کی روشنی میں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

نیا صوبہ اور وزیراعظم پر اعتماد، قراردایں منظور

حکومت نے جمعرات کوا کثرتی رائے سے جنوبی پنجاب کے نام سے نیا صوبہ بنانے کی قرارداد قومی اسمبلی سے منظور کرالی ہے۔

مسلم لیگ (ن) جو وزیراعظم کو توہین عدالت کیس میں سزا ملنے پر احتجاج کر رہی تھی انہوں نے اس موقع پر شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی۔

مسلم لیگ (ن) کے اراکین سپیکر کے روسٹرم کے آگے اور وزیراعظم کی نشست پر ‘گو گیلانی گو اور قوم بھوکی مار دی ہائے پیپلز پارٹی‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ کئی اراکین نے کتبے بھی لہرائے اور تمام اراکین نے بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔

دونوں قرادادوں کی منظوری کے بعد ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے ایوان کی کارروائی جمعہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کردی۔ جمعرات کو ایوان کی کارروائی مقررہ وقت سے سوا دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئی کیونکہ حکومت اپنے حامی اراکین کی بھرپور حاضری کو یقینی بنانا چاہتی تھی۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کی شعبدہ بازی کر رہی ہے تاکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ دو تین بار جب آئین میں ترمیم ہوئی اس وقت جنوبی پنجاب کی قرارداد کیوں نہیں لائی گئی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ مسلم لیگ (ن) جمعہ کو جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور فاٹا کے نئے صوبے بنانے کے لیے باضابطہ قرارداد لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی کو قوم کو پتہ چل جائے گا۔

بھوجا ائیر لائن کا طیارہ امریکی کمپنی کی ملکیت

راولپنڈی کے قریب حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ بوئنگ طیارہ کمپنی نے ایک امریکی کمپنی سے کرائے پر حاصل کیا تھا جس کے لیے ایک لاکھ ڈالر کے قریب رقم ہر ماہ ادا کی جاتی تھی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے اس جہاز کی ساخت اور صورتحال کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر کی سربراہی میں پانچ رکنی ٹیم نے گزشتہ روز فاروق بھوجا سے تفتیش کی تھی۔

یف آئی اے ذرائع کے مطابق کاغذات کے تحت حادثے کا شکار طیارے نے جنوری انیس سو پچاسی سے اپنا آپریشن شروع کیا اور رواں سال اوور ہالنگ کے بعد پچیس جنوری کو اس نے پاکستان سے پروازوں کا آغاز کیا۔

امریکہ سے خریداری کے وقت وہاں کی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور بعد میں پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی اسے کلیئرنس سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا۔

اس طیارے اور بھوجا ایئر کا کچھ ریکارڈ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ ریکارڈ بھی اہمیت کا حامل ہے جس میں خاص طور پر پائلٹ کی لاگ بک شامل ہے۔

 

Home | Terms And Conditions | FAQ's | Disclaimer | Privacy Policy | E Paper | World News | Sports News | Technology | Art | Entertainment | Contact Us