Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

Urdu Pakistan (اردو)English (United Kingdom)
بینر

جنگ

کانگو میں فائرنگ، سات پاکستانی فوجی زخمی

 

افریقی ملک میں کانگو میں احتجاج کے دوران دیہاتیوں نے فائرنگ کر کے اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل پاکستانی دستے کے سات ارکان کو زخمی کر دیا ہے۔

کانگو کے دارالحکومت کنساشا میں اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ پیر کو جنوبی کیوو صوبے میں بنیاکیری نامی ضلع میں پیش آیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس واقعے پر ہنگامی اجلاس منعقد کیا جس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں اس حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ وہ امن مشن کے دستوں پر حملوں کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے عوامی جمہوریہ کانگو کی حکومت کی ہر طرح سے حوصلہ افزائي کرے گي۔

امن فوجیوں پر فائرنگ اور پتھراؤ کرنے والے دیہاتی اپنے گاؤں پر ہونے والے ایک حملے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس میں اطلاعات کے مطابق چھ افراد مارے گئے تھے۔

ان دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر ہوتو قبیلے کی جانب سے ہونے والے حملے کے دوران اقوامِ متحدہ کی امن فوج نے ان کے گاؤں کے بچاؤ کے لیے کچھ نہیں کیا۔

ہوتو قبیلے کی باغی تنظیم ایف ڈی ایل آر مشرقی کانگو میں سرگرم ہے اور ان پر سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

جنگ بندی کی خلاف ورزیاں

بھارت کا کہنا ہے کہ رواں سال میں پاکستان نے جموں کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر آٹھ بار جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

بھارت نے اس کے لیے پڑوسی ملک کے ساتھ سخت احتجاج بھی کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’خلاف ورزیوں کے تمام واقعات کی تفتیش کی گئی ہے اور پاکستان کے فوجی حکام سے مناسب سطح پر ہاٹ لائن کے ذریعے اس مسئلے پر شکایت کی گئي ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس مسئلے کو گزشتہ برس جون میں اسلام آباد میں ہونے والی خارجہ سیکرٹری کی سطح کی ملاقات میں بھی پاکستان کے ساتھ اٹھایا تھا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت جموں و کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر سیز فائر نافذ العمل ہے۔

Dozens killed' in Nigeria raid

There are no translations available.

A large number of individuals have been wiped out within an attack on the cattle market in north-eastern Nigeria, witnesses have told the british asian news.

Witnesses say they saw several physiques being removed following the market in Potiskum, Yobe condition, was set burning by gunmen equipped with explosives.

A hospital source told the AFP news agency that as much as 34 people passed away.

"Several gunmen equipped with around 20 explosives and assault rifles assaulted the Potiskum cattle market," police spokesperson Toyin Gbadegesin told AFP.

"They put explosives and shot indiscriminately, setting fire towards the market, killing plenty of animals and wounding lots of people, mostly cattle sellers," he stated.

A list of males locked the gate of Potiskum's fenced cattle market, trapping many traders and animals inside, citizens told.

The marketplace - a busy buying and selling hub, with cattle on purchase from neighbouring Chad, Cameroon and Niger - was razed down late on Wednesday and lots of creatures were also burned to dying, citizens say.

بنوں حملہ: چار افسران معطل

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی نے بنوں جیل پر حملے اور قیدیوں کے فرار کے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بناتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات، بنوں کے کمشنر اور ڈی آئی جی بنوں سمیت چار اعلیٰ افسران کو ان کے عہدوں سے فوری طور پر ہٹا دیا ہے۔

دوسری جانب بنوں جیل کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے جیل پر حملہ ہونے کے فوری بعد بار بار مدد طلب کرنے کے باوجود سکیورٹی فورسز اور پولیس کی نفری وقت پر نہیں پہنچی۔

وزیراعلی کے پریس سیکرٹری جاوید خاکی کے مطابق کمیٹی کے ممبران میں ڈائریکٹر آر ایم ایم یو ڈاکٹر احسان الحق، سیکرٹری ایجوکیشن محمد مشتاق جدون اور سپیشل سیکرٹری ہوم سید عالمگیر شاہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ بنوں جیل پر ہونے والے حملے میں شدت پسندوں نے تین سو چوراسی قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا جن میں اکثریت عسکریت پسندوں کی تھی۔ ان میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے حملے میں ملوث ایک قیدی بھی شامل ہیں۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حملہ آوروں نے اپنی ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ کی کارروائی کے دوران تحمل سے تالے توڑے اور وہاں موجود قیدیوں کو بیرکوں سے باہر نکال لیا اور بغیر کسی مزاحمت قیدیوں کو ساتھ لے کر چلے گئے۔

جیل سپرنٹنڈنٹ زاہد خان اور دیگر اہلکاروں کی رہائش گاہ بھی جیل میں واقع ہے اور انہوں نے بی بی سی کہ وہ بے بس تھے اور انہوں نے سکیورٹی فورسز کو اطلاع دی تھی تاہم وہ وقت پر نہیں پہنچ سکے اور صبح ہی پہنچے۔

جیل کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی حیران تھے کہ انہوں نے سکیورٹی فورسز اور قریبی تھانے کو اطلاع دے دی تھی لیکن ان کی مدد کے لیے وقت پر کوئی نہیں پہنچ سکا۔

غزہ پر اسرائیلی حملے تیسرے روز بھی جاری

فلسطینی علاقے غزہ میں جاری اسرائیلی فضائی حملے تیسرے روز بھی جاری ہیں جنہیں عرب لیگ نے ’قتل عام‘ قرار دیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار کو جبالیہ مہاجر کیمپ کے قریب حملے میں ایک بارہ سالہ بچہ ہلاک ہوا ہے۔ تاہم غزہ شہر پر دوسرے دن کے ہوائی حملوں کے بعد تیسرے دن فلیسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد بیس ہوگئی ہے۔

امریکہ نے غزہ کی جانب سے راکٹ کے حملوں کو ’بزدلانہ‘ قرار دیا ہے جبکہ عرب لیگ نے اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کو ’قتل عام‘ قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین نے اِن واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

تشدد کی تازہ لہر جمعہ کو شروع ہوئی جب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملوں کے دوران پی آر سی یعنی پاپولر رزسٹنس کمیٹی کے سکریٹری جنرل کمانڈر زوہیر القاسمی اپنے دو ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے۔

غزہ میں عسکریت پسندوں نے فوری ردعمل کے طور پر جنوبی اسرائیل میں راکٹوں کی بارش کردی۔

فلسطین میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہفتے کو ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی قصبے رفاہ میں ایک شخص جبکہ خان یونس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

ان کے مطابق دو روز کی بمباری کے دوران کم سے کم چھبیس فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جن میں پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ راکٹوں کے حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے آئرن ڈوم میزائل شکن نظام نے اٹھائیس راکٹوں کا جو آبادی کی جانب داغے گئے تھے رخ موڑ دیا۔

اتوار کو جنوبی اسرائیل میں رہنے والی کمیوٹنیوں کے سکول بند رہیں گے۔ اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ سکولوں کی بندش کے باعث دو لاکھ طالبِ علم متاثر ہوں گے۔

 

Home | Terms And Conditions | FAQ's | Disclaimer | Privacy Policy | E Paper | World News | Sports News | Technology | Art | Entertainment | Contact Us